کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: قرآن بلند آواز سے پڑھنے کی کراہت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ : شَاذَانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ زِيَادٌ إِلَى أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ : اقْرَأْ ، فَقَرَأَ ، فَرَفَعَ صَوْتَهُ ، فَرَفَعَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْخِرْقَةَ عَنْ وَجْهِهِ صُعُدًا ، فَقَالَ : أَهَكَذَا تَصْنَعُونَ ؟ ! .
قَالَ حَمَّادٌ : فَحَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ الْحَسَنَ ، قَالَ : رَفَعَ إِنْسَانٌ صَوْتَهُ عِنْدَ الْحَسَنِ ، فَرَفَعَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَضَرَبَ وَجْهَهُ ، وَقَالَ : مَا هَذَا ؟ ! .
ترجمہ
عبید اللہ بن ابی بکر بن انس بیان کرتے ہیں کہ زیاد، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ان سے کہا: ”تم قراءت کرو“، چنانچہ انہوں نے پڑھنا شروع کیا اور اپنی آواز بہت بلند کر لی، اس پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا اوپر کی جانب اٹھایا اور (اظہارِ ناپسندیدگی کرتے ہوئے) فرمایا: ”کیا تم لوگ اسی طرح (چیخ کر) قراءت کرتے ہو؟!“
حماد کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو امام حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی نے امام حسن بصری کی مجلس میں اپنی آواز بلند کی، تو انہوں نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کر اس کے چہرے پر دے ماریں اور (سختی سے) فرمایا: ”یہ کیا طرزِ عمل ہے؟!“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 602
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 602، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 30570»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ - وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ - فَقَالَ : لَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُصَلِّيَ .
( 28 ) وَحَدِيثُ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَقَدَّمَ قَرِيبًا .
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کی ایک رات ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ لوگ نماز ادا کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے مقابلے میں (قرأت کرتے ہوئے) آواز بلند نہ کرے، کیونکہ بلاشبہ ایسا کرنا نمازی کو اذیت دینے اور اس کی توجہ میں خلل ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔“
اور امام حارث کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مبارکہ قریب ہی پہلے گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 603
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 18543، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2383، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1707»