المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ باب: قرآن بلند آواز سے پڑھنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 603
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ - وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ - فَقَالَ : لَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُصَلِّيَ .
( 28 ) وَحَدِيثُ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَقَدَّمَ قَرِيبًا .ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کی ایک رات ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ لوگ نماز ادا کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے مقابلے میں (قرأت کرتے ہوئے) آواز بلند نہ کرے، کیونکہ بلاشبہ ایسا کرنا نمازی کو اذیت دینے اور اس کی توجہ میں خلل ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔“
اور امام حارث کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مبارکہ قریب ہی پہلے گزر چکی ہے۔