کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: جن چیزوں پر سجدہ کیا جائے، ان کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ ، هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ يَسْجُدُ عَلَى قِصَاصِ الشَّعَرِ ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ .
499 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ : قُلْتُ لِوَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ : يَا أَبَا نُعَيْمٍ ، مَا لَكَ لَا تُمَكِّنُ جَبْهَتَكَ وَأَنْفَكَ مِنَ الْأَرْضِ ؟ قَالَ : ذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى أَعْلَى جَبْهَتِهِ عَلَى قِصَاصِ الشَّعَرِ .
499 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، ثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْغَسَّانِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَتِهِ مَعَ قِصَاصِ الشَّعَرِ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، وَالَّذِي قَبْلَهُ كَذَلِكَ .
ترجمہ
عبد العزیز بن عبید اللہ بن حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں نے وہب بن کیسان کو پیشانی کے بال اگنے کی جگہ یعنی پیشانی کے بالائی کنارے پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، تو میں نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا، جس پر انہوں نے جواب دیا: ”مجھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔“ اور ابوبکر کی روایت کے مطابق عبد العزیز کہتے ہیں کہ میں نے وہب بن کیسان سے کہا: اے ابو نعیم! کیا وجہ ہے کہ آپ اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر پوری طرح ٹکا کر نہیں جما رہے؟ تو انہوں نے کہا: اصل بات یہ ہے کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی پیشانی کے بالائی حصے یعنی جہاں سے سر کے بال اگنا شروع ہوتے ہیں، وہاں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ اور امام ابو یعلیٰ کی روایت کے مطابق سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم ﷺ اپنی پیشانی کے اس حصے پر سجدہ فرماتے تھے جہاں سے بال اگتے ہیں۔“
یہ سند ضعیف ہے اور اس سے ماقبل والی سند کا بھی یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 499
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، وَالَّذِي قَبْلَهُ كَذَلِكَ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 1، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 435، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 2755، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1336/3»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ : شَكَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ الِاعْتِمَادَ فِي السُّجُودِ ، فَرَخَّصَ لَهُمْ أَنْ يَعْتَمِدُوا عَلَى رُكَبِهِمْ بِمَرَافِقِهِمْ .
مُرْسَلٌ .
ترجمہ
نعمان بن ابی عیاش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے سجدے کی حالت میں (ہاتھوں پر) بوجھ ڈالنے اور سہارا لینے کی مشقت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے انہیں اس بات کی رخصت و اجازت عطا فرمائی کہ وہ (تھکاوٹ کی صورت میں) اپنی کہنیوں کو اپنے گھٹنوں پر ٹکا کر ان سے سہارا لے لیا کریں۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 500
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مُرْسَلٌ . »
«أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1918، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 840، وأبو داود فى «سننه» برقم: 902، والترمذي فى «جامعه» برقم: 286، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2766، 2767، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8593، 9527، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6664، والبزار فى «مسنده» برقم: 8951، 8952، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 500، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2928، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 2677، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 1376»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : أَمَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا سَجَدْنَا : أَنْ نَضَعَ مَرَافِقَنَا وَسَوَاعِدَنَا عَلَى الْأَرْضِ فَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ ، فَقَالَ : كَذِبٌ .
ترجمہ
ابوالاحوص رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ”جب ہم سجدہ کریں تو اپنی کہنیاں اور اپنے بازو زمین پر بچھا دیا کریں۔“ ابوالاحوص بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا ذکر امام طاؤس رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ بات غلط ہے۔“
اس اثر کو امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (2749) میں روایت کیا ہے، امام طاؤس کا قول ”کذب“ حجازی محاورے کے مطابق خطا اور غلطی کے معنی میں ہے کیونکہ سجدے میں بازو بچھانا نبی کریم ﷺ کی سنت اور آپ کے واضح احکامات کے خلاف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 501
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب إسناده صحيح لذاته »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 501، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 2673، 2679»