کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نماز کے لیے کھڑے ہونے کے وقت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( كَانَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا قَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، نَهَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب (اقامت کے دوران) یہ کلمات ادا کرتے: «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی ہے“، تو رسول اللہ ﷺ (نماز کی امامت کے لیے) اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت اقامت کے مخصوص کلمات پر نبی کریم ﷺ کے عملِ قیام کی وضاحت کرتی ہے۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت اقامت کے مخصوص کلمات پر نبی کریم ﷺ کے عملِ قیام کی وضاحت کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، [ ثَنَا ] عَبْدُ الْوَاحِدِ ، [ ثَنَا ] يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : ( كَانَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْرَهُ أَنْ يُكَبِّرَ حَتَّى [يَفْرَغَ] الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْإِقَامَةِ ) .
ترجمہ
یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ "امام حسن بصری رحمہ اللہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ جب تک مؤذن اپنی اقامت مکمل کر کے فارغ نہ ہو جائے، تب تک (نماز کی ابتدا کے لیے) تکبیر کہی جائے۔"
اس اثر کو امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (رقم: 4461) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے، جو اس فقہی نکتے کی وضاحت کرتی ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کا مسنون وقت اقامت کی تکمیل کے بعد ہے۔
اس اثر کو امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (رقم: 4461) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے، جو اس فقہی نکتے کی وضاحت کرتی ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کا مسنون وقت اقامت کی تکمیل کے بعد ہے۔