المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ مَتَى يُقَامُ إِلَى الصَّلَاةِ باب: نماز کے لیے کھڑے ہونے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، [ ثَنَا ] عَبْدُ الْوَاحِدِ ، [ ثَنَا ] يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : ( كَانَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْرَهُ أَنْ يُكَبِّرَ حَتَّى [يَفْرَغَ] الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْإِقَامَةِ ) .ترجمہ
یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ "امام حسن بصری رحمہ اللہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ جب تک مؤذن اپنی اقامت مکمل کر کے فارغ نہ ہو جائے، تب تک (نماز کی ابتدا کے لیے) تکبیر کہی جائے۔"
اس اثر کو امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (رقم: 4461) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے، جو اس فقہی نکتے کی وضاحت کرتی ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کا مسنون وقت اقامت کی تکمیل کے بعد ہے۔