[قَالَ] الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى ، وَيُوتِرُ الْإِقَامَةَ " .
ترجمہ
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”وہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ پکارتے تھے اور اقامت (تکبیر) کے کلمات اکہرے یعنی طاق ادا کرتے تھے۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، یہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا مستند عمل ہے جو اس سنت کی دلیل ہے کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہے جائیں گے۔
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، یہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا مستند عمل ہے جو اس سنت کی دلیل ہے کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہے جائیں گے۔
[قَالَ] مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَوْ عَنْ غَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فَوْقَ ظَهْرِ الْكَعْبَةِ " .
ترجمہ
ابن ابی ملیکہ یا اہل مکہ کے کسی دوسرے شخص سے مروی ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کی چھت کے اوپر چڑھ کر اذان دیں۔“
اس روایت کی سند میں راوی کے نام میں شک اور ابہام موجود ہے، تاہم فتح مکہ کے تاریخی موقع پر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا کعبہ کی چھت پر اذان دینا دیگر مستند اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اس روایت کی سند میں راوی کے نام میں شک اور ابہام موجود ہے، تاہم فتح مکہ کے تاریخی موقع پر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا کعبہ کی چھت پر اذان دینا دیگر مستند اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔