المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّسَتُّرِ عِنْدَ الْغُسْلِ باب: غسل کے وقت پردہ اختیار کرنے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ إِلَى بَعِيرٍ ، يَعْنِي وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَأَنَا أَسْتُرُ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ ، إِذْ قَالَ لِي : " يَا يَعْلَى ، اصْبُبْ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ ! " . قُلْتُ : أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ ، قَالَ : " وَاللهِ مَا أَرَى الْمَاءَ يَزِيدُ الشَّعَرَ إِلَّا شَعَثًا " ، قَالَ : " بِسْمِ اللهِ " ، وَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ .سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حالتِ احرام میں اپنے اونٹ کی اوٹ میں غسل فرما رہے تھے اور میں ایک کپڑے کے ذریعے ان کی پردہ پوشی کر رہا تھا، اس دوران انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے یعلیٰ! میرے سر پر پانی ڈالو۔“ میں نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین زیادہ بہتر جانتے ہیں (کہ آیا احرام میں ایسا کرنا درست ہے یا نہیں)، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ پانی بالوں میں محض بکھراؤ اور پراگندگی ہی پیدا کرتا ہے (یعنی اس سے بال ٹوٹتے نہیں ہیں)۔“ پھر انہوں نے «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ کہا اور اپنے سر مبارک پر پانی بہا لیا۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری (1840) اور صحیح مسلم (1206) میں موجود ہے۔