المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کے احکام کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، ثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ ، وَكَانَ هُوَ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ قَالَ : فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ : كَيْفَ تَأْمُرُ بِالْمَسْحِ ؟ فَقَالَ : " بِئْسَمَا لِي إِنْ كَانَ مَهْنَاهُ لَكُمْ ، وَإِثْمُهُ عَلَيَّ ; قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ وَيَأْمُرُ بِهِ ، وَلَكِنَّهُ حُبِّبَ إِلَيَّ الْوُضُوءُ " . إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (موزوں پر) مسح کرنے کا حکم دیتے تھے، جبکہ وہ خود اپنے پاؤں دھویا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا کہ ”آپ (دوسروں کو) مسح کا حکم کس طرح دیتے ہیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میرے لیے یہ کتنی بری بات ہوگی کہ اس کی سہولت اور نفع تو تمہارے لیے ہو اور اس کا وبال مجھ پر آئے؛ یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو خود مسح کرتے ہوئے اور اس کا حکم دیتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن میرے لیے وضو (یعنی پاؤں کو مکمل دھونا) زیادہ پسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔“
اس کی سند صحیح ہے۔