المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کے احکام کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ سَأَلَ أَبَاهُ أَبَا أُمَامَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمِ امْسَحْ عَلَيْهِمَا " .
قَالَ الشَّامِيُّ : فَأَيْنَ قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ لِي أَبِي : أَيْ بُنَيَّ ، ائْتِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا قُلْتَهُ ! قَالَ : فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : إِنَّ أَبِي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ ، وَيَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ أَدْخَلْتَهُمَا طَاهِرَتَيْنِ فَامْسَحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى تَنْزِعَهُمَا " .سیدنا سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف الانصاری سے روایت ہے کہ شام کے رہنے والے ایک شخص نے ان کے والد ابو امامہ سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، تم ان پر مسح کر لیا کرو۔“
اس شامی شخص نے پوچھا: تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کا کیا بنے گا؟ (یعنی ان سے مروی اس کے برعکس قول کی کیا حیثیت ہوگی؟)۔ اس پر میرے والد نے مجھ سے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! تم سعید بن مسیب کے پاس جاؤ اور انہیں وہ بات بتاؤ جو اس شخص نے کہی ہے! سہل کہتے ہیں کہ میں سعید بن مسیب کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر تم نے موزے اس حال میں پہنے تھے کہ تمہارے پاؤں پاک (باوضو) تھے، تو تم ان پر مسح کرتے رہو یہاں تک کہ تم انہیں اتار دو۔“