المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ باب: افضل ترین صدقے کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَعْطَاهُ اللهُ تَعَالَى بِوَزْنِ كُلِّ ذَرَّةٍ مِنْهَا مِثْلَ جَبَلِ أُحُدٍ مِنْ نَعِيمِ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ مَشَى بِهَا إِلَى مِسْكِينٍ كَانَ لَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ ، وَلَوْ تَدَاوَلَهَا أَرْبَعُونَ أَلْفَ إِنْسَانٍ حَتَّى تَصِلَ إِلَى الْمِسْكِينِ ، كَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلُ ذَلِكَ الْأَجْرِ كَامِلًا ، وَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى لِلَّذِينَ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: ”جس شخص نے کوئی صدقہ دیا تو اللہ تعالیٰ اسے اس صدقے کے ہر ذرے کے وزن کے بدلے جنت کی نعمتوں میں سے کوہِ احد کے برابر اجر عطا فرمائے گا، اور جو شخص خود چل کر وہ صدقہ کسی مسکین تک لے گیا اسے بھی اسی کے برابر ثواب ملے گا، اور اگر اس صدقے کو چالیس ہزار افراد نے بھی ایک دوسرے کے ذریعے منتقل کیا یہاں تک کہ وہ کسی ضرورت مند تک پہنچ گیا، تو ان میں سے ہر ایک کو اتنا ہی مکمل اجر ملے گا، کیونکہ ﴿وَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾ (سورۃ القصص: 60) 'اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ زیادہ بہتر اور پائیدار ہے' ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور نیکی کی“۔
ائمہ حدیث کے نزدیک یہ ایک موضوع (من گھڑت) روایت ہے۔