المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ باب: افضل ترین صدقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 972
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنْتُ مُسْنِدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَدْرِي فَقَالَ : مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ تَعَالَى خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ .ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے سینے سے ٹیک لگا رکھی تھی (یعنی آپ ﷺ میرے سینے کا سہارا لیے ہوئے تھے) کہ اس دوران آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر صدقہ کیا اور اس کا خاتمہ اسی نیک عمل پر ہوا تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
ائمہ حدیث اس مبارک فرمان کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد 'حسنِ خاتمہ' کی وہ عظیم فضیلت ہے جس میں کسی انسان کو اپنے آخری وقت میں خالص اللہ کی رضا کے لیے نیکی کی توفیق مل جائے، تو ایسا عمل اس کے لیے مغفرت اور دخولِ جنت کا پروانہ بن جاتا ہے۔