المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ وُصُولِ الصَّدَقَةِ إِلَى الْمَيِّتِ باب: میت کو صدقہ کا ثواب پہنچنے کا بیان۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى إِلَّا وَالْمَلَائِكَةُ مَعَهُمُ الرَّيَاحِينُ يَخْتَلِجُونَهُ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ : يَا عَبْدَ اللهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ .
974 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عِنْدَهُ جَالِسٌ : مَا مِنْ مُسْلِمٌ يُنْفِقُ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، إِلَّا جَاءَتِ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُمُ الرَّيْحَانُ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ : يَا عَبْدَ اللهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَلُمَّ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مَا عَلَى مَالِهِ مِنْ تَوًى ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کی راہ میں (مال و متاع کا) جوڑا خرچ کرتا ہے، تو جنت کے دروازوں پر فرشتے خوشبودار پھول لیے اسے اپنی طرف لپک کر بلاتے ہیں کہ: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! یہ عمل سراسر خیر ہے۔“
ابن ابی عمر کی روایت میں یہ تفصیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ: ”جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی صدقہ دیتا ہے، قیامت کے دن جنت کے دروازوں پر فرشتے خوشبودار پھولوں کے ساتھ حاضر ہو کر اسے پکاریں گے: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! ادھر آؤ۔“ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے شخص کے مال پر کبھی کوئی ہلاکت یا زوال آ سکتا ہے؟ (یعنی کیا وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے گا؟) تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! اور مجھے اللہ سے قوی امید ہے کہ تم انہی خوش نصیبوں میں سے ہو گے۔“
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ فَهْدٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا كُنَّا عَلَى مَا عَلِمْتَ ، وَإِنَّا قَدْ صَاهَرْنَا إِلَيْكُمْ ، فَجَعَلَ اللهُ لَنَا فِي مُصَاهَرَتِكُمْ خَيْرًا ، وَإِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ : لَوْ تَصَدَّقْتِ عَنْهَا بِكُرَاعٍ لَنَفَعَهَا .
قُلْتُ : هُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ حَفْصٍ ، وَخَوْلَةَ .سیدہ خولہ بنتِ فہد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ مطہرہ تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (پہلے) ہم جس حال میں تھے وہ آپ کے علم میں ہے، پھر ہم نے آپ کے خاندان میں رشتہ داری کی تو اللہ تعالیٰ نے اس قرابت داری کے طفیل ہمیں بڑی خیر و برکت سے نوازا، (دریافت طلب امر یہ ہے کہ) میری والدہ وفات پا چکی ہیں، تو کیا میری طرف سے ان کے لیے صدقہ کرنا انہیں کچھ نفع دے گا؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم ان کی جانب سے بکری کے ایک کُھر (جیسی معمولی چیز) کا بھی صدقہ کرو تو وہ بھی انہیں نفع پہنچائے گا۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ اس روایت کی سند حفص اور سیدہ خولہ کے درمیان منقطع ہے۔