المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ باب: افضل ترین صدقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 971
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ .ترجمہ
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہترین صدقہ اس رشتہ دار پر کرنا ہے جو دل میں دشمنی چھپائے ہوئے ہو۔“
ائمہ لغت اور شارحین کے نزدیک 'کاشح' اس دشمن کو کہا جاتا ہے جو اپنے سینے یا پہلو (کَش) میں عداوت کو مخفی رکھتا ہے؛ اس عمل کو اس لیے افضل قرار دیا گیا کیونکہ اس میں نفس کی مکمل مخالفت اور دشمن رشتہ دار کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا وہ اعلیٰ درجہ پایا جاتا ہے جو باہمی کدورتوں کو ختم کر کے صلہ رحمی کی راہ ہموار کرتا ہے۔