المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ باب: افضل ترین صدقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 970
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْأَسْوَدِ ، عَنْ مُنْيَةَ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي بَرْزَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ يَوْمًا : خَيْرُكُنَّ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا . فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تَضَعُ يَدَهَا عَلَى الْجِدَارِ ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَسْتُ أَعْنِي هَذَا ، وَلَكِنْ أَعْنِي أَصْنَعَكُنَّ يَدًا .ترجمہ
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں، آپ ﷺ نے ایک دن ارشاد فرمایا: ”تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہو۔“ یہ سن کر تمام ازواجِ مطہرات اٹھ کھڑی ہوئیں اور (لمبائی ناپنے کے لیے) اپنا اپنا ہاتھ دیوار پر رکھنے لگیں، تو رسول اللہ ﷺ نے حقیقت واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میری مراد یہ (ظاہری لمبائی) نہیں ہے، بلکہ میری مراد وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ ہنر مند اور محنتی (یعنی اپنے ہاتھ کی کمائی سے صدقہ و خیرات کرنے والی) ہے۔“