المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ باب: افضل ترین صدقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 968
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ سَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا رَسُولَ اللهِ ، مُرْنِي بِصَدَقَةٍ ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْقِ ، يَعْنِي الْمَاءَ . قَالَ الْحَسَنُ : فَنَصَبَ سِقَايَتَيْنِ كُنْتُ أَسْعَى بَيْنَهُمَا وَأَنَا غُلَامٌ .ترجمہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے کسی صدقے کا حکم دیجیے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پانی پلاؤ (یعنی پانی فراہم کرنے کا انتظام کرو)۔“
امام حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (اس فرمانِ نبوی کی تعمیل میں) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پانی پلانے کے دو بڑے حوض یا سبیلیں نصب کروائیں، اور میں اپنے بچپن کے زمانے میں ان دونوں کے درمیان دوڑا کرتا تھا۔