المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 967
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْكَوْثَرِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي ، عَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَلَا إِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ عَضُوضٌ ، يَعَضُّ الْمُؤْمِنُ عَلَى مَا فِي يَدِهِ حَذَارَ الْإِنْفَاقِ ، وَاللهُ تَعَالَى يَقُولُ : وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ .ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! عنقریب تم پر ایک ایسا کٹھن اور کڑا زمانہ آئے گا جس میں مومن خرچ ہو جانے کے خوف سے اپنے پاس موجود مال و متاع کو دانتوں سے پکڑ کر رکھے گا (یعنی انتہائی بخل سے کام لے گا)، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ (سورۃ السبا: ۳۹) ”اور تم جو کچھ بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے، وہ اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔“”