المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 964
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : لَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِخَاتَمِي هَذَا عَلَى مِسْكِينٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَلْفِ دِرْهَمٍ أُهْدِيهَا إِلَى الْبَيْتِ .ترجمہ
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میرا اپنی اس انگوٹھی کو کسی ضرورت مند مسکین پر صدقہ کر دینا مجھے اس بات سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ میں بیت اللہ کی خدمت کے لیے ایک ہزار درہم کا ہدیہ پیش کروں۔“
وضاحت: اس قولِ مبارک سے یہ فقہی و علمی نکتہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے ضرورت مند بندوں کی حاجت روائی کرنا اور ان کے افلاس کو دور کرنا بعض اوقات دیگر نفلی صدقات اور شعائرِ اسلام پر خرچ کرنے سے زیادہ فضیلت اور اجر کا باعث ہوتا ہے۔