المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ ، أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي قَرِيبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْكَ شَكَكْتُ فِيهِ ، قَالَ : إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْأَمْرِ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ . قَالَ : قَوْلُكَ فِي أَزْوَاجِكَ : إِنِّي لَأَرْجُو لَهُنَّ مِنْ بَعْدِي الصِّدِّيقِينَ . قَالَ : مَنْ تَعْنُونَ بِالصِّدِّيقِينَ ؟ قَالَ : قُلْنَا : أَوْلَادُنَا الَّذِينَ يَهْلِكُونَ صِغَارًا . قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّ الصِّدِّيقِينَ هُمُ الْمُتَصَدِّقُونَ .سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ایک بات میں نے آپ سے سماعت کی ہے جس کے متعلق مجھے شک و تردد لاحق ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کسی معاملے میں شک پیش آئے تو اسے چاہیے کہ وہ مجھ سے اس کے متعلق دریافت کر لے“۔ میں نے عرض کیا: (میرا تردد) آپ کے اپنی ازواجِ مطہرات کے متعلق اس ارشاد پر ہے کہ ”میں اپنے بعد ان کے لیے صدیقین کی امید رکھتا ہوں“۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم لوگ صدیقین سے کیا مراد لیتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: اس سے مراد ہماری وہ اولاد ہے جو بچپن میں ہی وفات پا جاتی ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں صدیقین سے مراد وہ سعادت مند لوگ ہیں جو کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والے ہوں“۔