المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَسَاوِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ : اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنَّهَا تُقِيمُ الْعِوَجَ ، وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ ، وَتَقَعُ مِنَ الْجَائِعِ مَوْقِعَهَا مِنَ الشَّبْعَانِ .ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر کی لکڑیوں پر جلوہ افروز ہو کر یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے (صدقہ کر کے) کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ عمل کجی کو دور کر کے حالت درست کر دیتا ہے، بری اور ناگہانی موت کو ٹالتا ہے، اور ایک بھوکے شخص کے لیے یہ (حقیر سا ٹکڑا) وہی افادیت و مقام رکھتا ہے جو کسی آسودہ اور سیر شخص کے لیے ہوتا ہے۔“