المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو قُرَّةَ هُوَ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : ذُكِرَ لِي أَنَّ الْأَعْمَالَ تَتَبَاهَى ، فَتَقُولُ الصَّدَقَةُ : أَنَا أَفْضَلُكُمْ . قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِزَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ (قیامت کے دن نیک) اعمال ایک دوسرے کے سامنے اپنی بڑائی بیان کریں گے تو صدقہ کہے گا کہ میں تم سب سے افضل ہوں“ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان اپنے مال میں سے (کسی بھی شے کا) جوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہے تو جنت کے دربان (اس کے استقبال اور اسے خوشخبری دینے کے لیے) اس کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں۔“
اس روایت میں صدقہ کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے اور 'زوجین' سے مراد ایک ہی جنس کی دو چیزیں ہیں، مثلاً دو درہم، دو کپڑے یا دو جانور وغیرہ، جنہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے خیرات کیا جائے۔