❮
❯
حدیث نمبر: 952
إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو قُرَّةَ هُوَ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : ذُكِرَ لِي أَنَّ الْأَعْمَالَ تَتَبَاهَى ، فَتَقُولُ الصَّدَقَةُ : أَنَا أَفْضَلُكُمْ . قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِزَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ .
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ (قیامت کے دن نیک) اعمال ایک دوسرے کے سامنے اپنی بڑائی بیان کریں گے تو صدقہ کہے گا کہ میں تم سب سے افضل ہوں“ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان اپنے مال میں سے (کسی بھی شے کا) جوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہے تو جنت کے دربان (اس کے استقبال اور اسے خوشخبری دینے کے لیے) اس کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں۔“
اس روایت میں صدقہ کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے اور 'زوجین' سے مراد ایک ہی جنس کی دو چیزیں ہیں، مثلاً دو درہم، دو کپڑے یا دو جانور وغیرہ، جنہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے خیرات کیا جائے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 952
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2433، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1523»