المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَفَضْلِهَا باب: صدقہ و خیرات کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا مَعْبَدٌ ، أَخْبَرَنِي فُلَانٌ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ حَدِيثٍ قَبْلَهُ ، فِيهِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَمَا الصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَعِنْدَ اللهِ مَزِيدٌ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : جَهْدُ مُقِلٍّ ، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ .سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے، پھر راوی نے سابقہ روایت کی مانند حدیث بیان کی جس میں یہ ذکر ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صدقہ (اور اس کا اجر) کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر دیا جانے والا اجر ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ہاں اس سے بھی زیادہ فضل و کرم موجود ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی کم مال والے (تنگدست) کی اپنی محنت و مشقت کی کمائی سے دیا ہوا صدقہ یا وہ مال جو کسی محتاج کو نہایت رازداری کے ساتھ دیا جائے۔“