المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ كَنْزِ الْمَالِ باب: مال جمع کرنے سے ڈرانے کا بیان۔
وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ .
951 \ 2 - ( ح ) ، وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، جَمِيعًا قَالَا : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ ، وَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي خَلَّفْتَ بَعْدَكَ ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ فَيَقْضَمَهَا ، ثُمَّ يَتْبَعَهُ سَائِرَ جَسَدِهِ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ طَرِيقًا ، يَعْنِي إِلَى ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَّا هَذَا .سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اپنے پیچھے ایسا مال و خزانہ چھوڑا جس کا حق ادا نہ کیا گیا ہو، تو قیامت کے دن وہ خزانہ ایک نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل میں ظاہر کیا جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نشان ہوں گے، وہ سانپ اس شخص کا پیچھا کرے گا تو وہ (گھبرا کر) دریافت کرے گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گا کہ میں تیرا وہی خزانہ ہوں جو تو اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا، چنانچہ وہ مسلسل اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ وہ شخص (بچاؤ کی خاطر) اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا تو وہ اسے چبانے لگے گا، پھر وہ اس کے بقیہ تمام جسم کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا۔“
امام بزار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کا ہمیں اس سند کے علاوہ کوئی دوسرا طریق معلوم نہیں ہے۔