المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ باب: زکوٰۃ الفطر کا بیان۔
( 38 ) حديث عائشة - رضي الله عنها - في ذلك تقدم في أول باب الوضوء .اس بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث باب الوضوء کے آغاز میں گزر چکی ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تُعْطِي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ مَنْ يَمُوتُ مِنْ أَهْلِهَا : الصَّغِيرُ ، وَالْكَبِيرُ ، وَالشَّاهِدُ ، وَالْغَائِبُ .امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے وکیع، ہشام اور فاطمہ بنت منذر کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ سیدتنا اسماء رضی اللہ عنہا اپنے خاندان کے ان تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر ادا فرماتی تھیں جن کی وہ کفالت اور پرورش کی ذمہ دار تھیں، ان میں چھوٹے، بڑے، موجود اور غائب (مسافر) سبھی شامل ہوتے تھے۔
وضاحت: ائمہ کے نزدیک یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ گھر کے سربراہ کو اپنے تمام زیرِ کفالت افراد کی جانب سے فطرانہ ادا کرنا چاہیے تاکہ روزوں کی طہارت اور مساکین کی حاجت روائی کا سامان ہو سکے۔