المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي إِخْرَاجِ الزَّكَاةِ باب: زکوٰۃ ادا کرنے کی ترغیب و تشویق کا بیان۔
حدیث نمبر: 947
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : مَا كَرُمَ عَبْدٌ عَلَى اللهِ تَعَالَى إِلَّا ازْدَادَ عَلَيْهِ الْبَلَاءُ شِدَّةً ، وَلَا أَعْطَى عَبْدٌ صَدَقَةَ مَالِهِ فَنَقَصَتْ ، وَلَا أَمْسَكَهَا فَزَادَتْ فِي مَالِهِ ، وَلَا سَرَقَ سَارِقٌ إِلَّا حُسِبَ مِنْ رِزْقِهِ .ترجمہ
سیدنا کعب الاحبار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں جب بھی کسی بندے کی قدر و منزلت بڑھتی ہے تو اس پر آنے والی آزمائشوں کی شدت میں بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے، اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بندے نے اپنے مال کا صدقہ دیا ہو اور اس سے اس کے مال میں حقیقت میں کمی واقع ہوئی ہو، اور نہ ہی کسی نے بخل کی وجہ سے مال کو روک کر رکھا تو اس سے اس کے مال میں کوئی اضافہ ہوا، اور کوئی چور جب بھی چوری کرتا ہے تو وہ مال اس کے مقدر شدہ رزق ہی میں سے شمار کر لیا جاتا ہے۔“