❮
❯
حدیث نمبر: 946
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ هُوَ ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ : سَأَلَ رَجُلًا عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ إِبِلِهِ ، فَذَكَرَ عَجَفًا ، وَدَبَرًا ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنِّي لَأَحْسَبُهَا ضِخَامًا سِمَانًا ، فَمَرَّ عَلَيْهِ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَهُوَ فِي إِبِلِهِ يَحْدُوهَا ، وَهُوَ يَقُولُ :
أَقْسَمَ بِاللهِ أَبُو حَفْصٍ عُمَرْ مَا إِنَّ بِهَا مِنْ نَقَبٍ وَلَا دَبَرْ
فَاغْفِرِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ فَجَرْ .
قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَا هَذَا ؟ قَالَ : أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ سَأَلَنِي عَنْ إِبِلِي ، فَأَخْبَرْتُهُ عَنْهَا ، فَزَعَمَ أَنَّهُ يَحْسَبُهَا ضِخَامًا سِمَانًا ، وَهِيَ كَمَا تَرَى ، قَالَ : فَإِنِّي أَنَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ ، ائْتِنِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَتَاهُ فَأَمَرَ بِهَا فَقُبِضَتْ ، وَأَعْطَاهُ مَكَانَهَا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ .
ترجمہ

سیدنا محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے اونٹوں کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے ان کی لاغری اور پیٹھ کے زخموں کا تذکرہ کیا، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا تو یہ گمان تھا کہ وہ بڑے توانا اور فربہ ہوں گے“، پھر ایک موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا جبکہ وہ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہا تھا: «أَقْسَمَ بِاللهِ أَبُو حَفْصٍ عُمَرْ مَا إِنَّ بِهَا مِنْ نَقَبٍ وَلَا دَبَرْ فَاغْفِرِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ فَجَرْ» یعنی ابو حفص عمر نے اللہ کی قسم کھائی کہ ان اونٹوں کے تلووں میں کوئی زخم ہے نہ پیٹھ پر چوٹ، پس اے اللہ! اگر انہوں نے اس معاملے میں (غلط بیانی کر کے) گناہ کیا ہے تو انہیں معاف فرما دے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ماجرا ہے؟“ اس نے عرض کیا: امیر المؤمنین نے مجھ سے میرے اونٹوں کا حال پوچھا تھا اور میں نے انہیں مطلع کر دیا تھا، مگر ان کا گمان تھا کہ وہ خوب موٹے تازے ہیں حالانکہ وہ ویسے ہی نحیف ہیں جیسے آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ہی امیر المؤمنین عمر ہوں، تم میرے پاس فلاں فلاں جگہ پہنچو“، چنانچہ وہ شخص حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان بیمار اونٹوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم صادر فرمایا اور اسے ان کے عوض بیت المال کے زکوٰۃ والے اونٹوں میں سے تندرست اونٹ عطا فرما دیے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 946
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»