المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَعْمِيمِ الْأَصْنَافِ بِالصَّدَقَةِ باب: صدقہ تمام مستحق اصناف میں تقسیم کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَكِينَةَ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَدِمَ الْجَابِيَةَ ، جَابِيَةَ دِمَشْقَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَى أَنْ قَالَ : أَلَا إِذَا انْصَرَفْتُ مِنْ مَقَامِي هَذَا ، فَلَا يَبْقَيَنَّ أَحَدٌ لَهُ حَقٌّ فِي الصَّدَقَةِ إِلَّا أَتَانِي ، فَلَمْ يَأْتِهِ مِمَّنْ حَضَرَهُ إِلَّا رَجُلَانِ ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَأُعْطِيَا ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَصْلَحَ اللهُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا هَذَا الْغَنِيُّ الْمُتَفَقِّدُ بِأَحَقَّ بِالصَّدَقَةِ مِنْ هَذَا الْفَقِيرِ الْمُتَعَفِّفِ ، قَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَيْحَكَ ، وَكَيْفَ لَنَا بِأُولَئِكَ ؟عبد اللہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ دمشق کے علاقے جابیہ میں تشریف لائے اور خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! جب میں اپنے اس مقام سے فارغ ہو کر ہٹوں تو صدقہ و خیرات کا حق رکھنے والا کوئی بھی شخص ایسا نہ رہے جو میرے پاس حاضر نہ ہو جائے“، پس وہاں موجود حاضرین میں سے صرف دو آدمی آپ کے پاس آئے، آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انہیں مال عطا کر دیا گیا، تب ایک شخص اٹھا اور عرض گزار ہوا: «أَصْلَحَ اللهُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ» (اللہ امیر المومنین کے معاملات کی اصلاح فرمائے)، یہ مالدار شخص جو خود اپنا حق تلاش کرنے آ گیا ہے، اس سفید پوش غریب سے زیادہ صدقے کا حقدار تو نہیں ہے جو اپنی عفت اور حیا کی وجہ سے مانگنے سے بچتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیرا ناس ہو! (ہم تو انہیں دے رہے ہیں جو سامنے آئے ہیں) لیکن بھلا ہم ان (گوشہ نشین اور چھپے ہوئے غریب) لوگوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں (جو اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتے)؟“۔