المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ لِمَنْ لَا يَحْتَاجُ إِلَيْهَا باب: ضرورت نہ رکھنے والے کے لیے سوال کرنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ مَالًا إِلَّا أَهْلَكَتْهُ .
932 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، بِهَذَا .
932 \ 3 - قَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهِ .
قُلْتُ : كَذَا وَقَعَ ، وَأَظُنُّهُ انْقَلَبَ وَتَحَرَّفَ .
فَقَدْ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ فِي تَرْجَمَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّهُ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ هِشَامٍ .
وَوَقَعَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ عِنْدَ الْحُمَيْدِيِّ قَالَ : يَكُونُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ صَدَقَةٌ تُخْرِجُهَا ، فَلَا تُخْرِجُهَا فَيُهْلِكُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ . وَهَذَا تَفْسِيرُ الْمُرَادِ مِنَ الْخَبَرِ ، وَهُوَ فِيمَا يَظْهَرُ لِي كَلَامُ الْحُمَيْدِيِّ ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ لِغَيْرِهِ مِمَّنْ فَوْقَهُ ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ أَنَّ الرَّجُلَ يَأْخُذُ الزَّكَاةَ وَهُوَ غَنِيٌّ عَنْهَا فَيُضِيفُهَا مَعَ مَالِهِ إِلَّا أَهْلَكَتْهُ ، وَهَذَا عَنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ ، وَعَلَيْهِ اعْتَمَدْتُ فِي إِخْرَاجِهِ فِي هَذَا الْبَابِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”صدقہ (یعنی زکوٰۃ کا مال) جس کسی مال میں بھی شامل ہو جائے تو وہ اسے ہلاک و برباد کر دیتا ہے۔“
امام حمیدی، ابن ابی عمر اور بزار نے اس روایت کو مختلف اسناد سے نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند کے بعض ناموں میں راویوں سے سہو یا تبدیلی کا احتمال ظاہر کیا گیا ہے؛ امام ابنِ عدی کے بقول محمد بن عثمان اس روایت کو ہشام سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔ امام حمیدی نے حدیث کے آخر میں اس کی وضاحت یوں بیان فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے مال پر زکوٰۃ واجب ہو اور تم اسے ادا نہ کرو، تو یہ حرام (غیر ادا شدہ زکوٰۃ) تمہارے حلال مال کو بھی برباد کر دیتا ہے۔ ظاہر یہی ہوتا ہے کہ یہ کلام امام حمیدی کا ہے، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان سے اوپر کسی راوی کا قول ہو۔ ایک دوسرا مفہوم جو امام احمد بن حنبل سے منقول ہے، یہ ہے کہ کوئی غنی اور مالدار شخص (ناجائز طور پر) زکوٰۃ کا مال لے کر اپنے مال میں شامل کر لے تو وہ اسے تباہ کر دیتا ہے، اور اسی قول پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو اس باب میں درج کیا گیا ہے۔