المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ لِمَنْ لَا يَحْتَاجُ إِلَيْهَا باب: ضرورت نہ رکھنے والے کے لیے سوال کرنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَوْصَى بَنِيهِ عِنْدَ مَوْتِهِ : أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَإِيَّاكُمْ وَالْمَسْأَلَةَ ، فَإِنَّهَا آخِرُ كَسْبِ الرَّجُلِ .
إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ .
931 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، وَفِيهِ : وَإِيَّاكُمْ وَالْمَسْأَلَةَ ، فَإِنَّهَا آخِرُ كَسْبِ الْمَرْءِ ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يَسْأَلَ إِلَّا بَذَلَ كَسْبُهُ وَجْهَهُ .سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں...“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی جس میں یہ الفاظ ہیں: ”اور تم لوگوں سے مانگنے (سوال کرنے) سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ انسان کی کمائی کا سب سے آخری اور نکما ذریعہ ہے“
اس کی سند جید ہے اور یہ روایت موقوف ہے۔ نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ مرقوم ہے: ”اور تم سوال کرنے سے بچو کیونکہ یہ انسان کی کمائی کا ادنیٰ ترین درجہ ہے، اور یقیناً جو شخص بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے وہ اپنی اس کمائی کے بدلے اپنے چہرے کا وقار اور آبرو کھو دیتا ہے“۔