المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْإِجْمَالِ فِي طَلَبِ الرِّزْقِ باب: رزق کی تلاش میں میانہ روی کا بیان۔
حدیث نمبر: 930
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ مَوْلَى كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُؤْتِي عَبْدَهُ مَا كَتَبَ لَهُ مِنَ الرِّزْقِ ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، خُذُوا مَا حَلَّ ، وَدَعُوا مَا حَرُمَ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہی رزق عطا فرماتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے، لہٰذا تم رزق کی تلاش اور طلب میں میانہ روی و اعتدال کا خوبصورت راستہ اختیار کرو؛ جو حلال ہو اسے حاصل کر لو اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو۔“