المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْإِجْمَالِ فِي طَلَبِ الرِّزْقِ باب: رزق کی تلاش میں میانہ روی کا بیان۔
حدیث نمبر: 928
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِينِي مِنْكُمْ فَيَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ ، فَيَنْطَلِقُ وَمَا يَحْمِلُ فِي حِضْنِهِ إِلَّا النَّارَ .
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص میرے پاس آکر مجھ سے (مال و متاع کا) سوال کرتا ہے تو میں اسے (کچھ نہ کچھ) عطا کر دیتا ہوں، پھر وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوتا ہے کہ اس نے اپنی گود میں جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں سمیٹا ہوتا۔“
یہ حدیث مبارکہ صحیح ہے۔