المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْإِجْمَالِ فِي طَلَبِ الرِّزْقِ باب: رزق کی تلاش میں میانہ روی کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ الْيَامِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا أَمَرْتُكُمْ بِهِ ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ ، وَإِنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ إِلَّا وَقَدْ كَتَبَ اللهُ تَعَالَى رِزْقَهَا ، فَاتَّقُوا اللهَ ، وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِالْمَعَاصِي ، فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا بِطَاعَتِهِ .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسی کوئی بھی شے نہیں ہے جو تمہیں جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دینے والی ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے، اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں جنت سے دور اور جہنم کے قریب کر دینے والی ہو مگر میں نے تمہیں اس سے منع فرما دیا ہے۔ یقیناً روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات القا فرمائی ہے کہ کوئی بھی جان اس وقت تک موت کا ذائقہ نہیں چکھے گی جب تک اللہ تعالیٰ کا تحریر کردہ اپنا رزق مکمل نہ کر لے، پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور رزق کی طلب میں عمدہ و پاکیزہ طریقہ اپناؤ۔ رزق کے ملنے میں تاخیر تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے تلاش کرنے لگو، کیونکہ جو (خیر و برکت) اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسے محض اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے“
اس حدیث کی سند میں انقطاع (ٹوٹاؤ) پایا جاتا ہے۔