المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمَوَالِيهِمْ باب: بنو ہاشم اور ان کے موالی پر صدقہ حرام ہونے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : بَعَثَ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ ابْنَيْهِ إِلَى نَبِيِّ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمَا : انْطَلِقَا إِلَى عَمِّكُمَا لَعَلَّهُ يَسْتَعْمِلُكُمَا عَلَى الصَّدَقَاتِ ، لَعَلَّكُمَا تُصِيبَانِ شَيْئًا فَتُزَوَّجَانِ ، فَلَقِيَا عَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : أَيْنَ تَأْخُذَانِ ؟ فَحَدَّثَاهُ بِحَاجَتِهِمَا ، فَقَالَ لَهُمَا : ارْجِعَا ، فَرَجَعَا ، فَلَمَّا أَمْسَى أَمَرَهُمَا - يَعْنِي أَبُوهُمَا - أَنْ يَنْطَلِقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رُفِعَا إِلَى الْبَابِ اسْتَأْذَنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : ارْخِي عَلَيْكِ سَجْفَكِ ، أَدْخِلِي عَلَيَّ ابْنَيْ عَمِّي . فَحَدَّثَا نَبِيَّ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَاجَتِهِمَا ، فَقَالَ لَهُمَا نَبِيُّ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الصَّدَقَاتِ شَيْءٌ ، إِنَّهَا غُسَالَةُ الْأَيْدِي ، إِنَّ لَكُمْ خُمُسًا ، وَفِي الْخُمُسِ مَا يَكْفِيكُمْ ، أَوْ يُغْنِيكُمْ .سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نوفل بن حارث نے اپنے دو بیٹوں کو اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں اس ہدایت کے ساتھ روانہ کیا کہ ”تم دونوں اپنے چچا کی بارگاہ میں حاضر ہو، شاید وہ تمہیں صدقات کی وصولی کا کام سونپ دیں تاکہ تمہیں کچھ مالی فائدہ پہنچے اور تم نکاح کر سکو۔“ راستے میں ان کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی، جب انہوں نے دریافت فرمایا کہ ”تم دونوں کہاں جا رہے ہو؟“ تو انہوں نے اپنا مقصد بیان کر دیا، جس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس لوٹ جانے کا مشورہ دیا اور وہ لوٹ آئے۔ شام کے وقت ان کے والد نے انہیں دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جانے کا حکم دیا، جب وہ آپ ﷺ کے دروازے پر پہنچے اور اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: ”تم اپنا پردہ لٹکا لو اور میرے چچا کے ان دونوں بیٹوں کو اندر بلا لو۔“ چنانچہ ان دونوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی ضرورت پیش کی تو اللہ کے نبی ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے یعنی اہل بیت کے لیے صدقات میں سے کچھ بھی لینا حلال نہیں ہے، کیونکہ یہ لوگوں کے ہاتھوں کا دھوون ہے، بلاشبہ تمہارا حق خمس (مالِ غنیمت کے پانچویں حصے) میں ہے اور خمس میں تمہارے لیے اتنا حصہ موجود ہے جو تمہاری ضرورت کو پورا کرنے یا تمہیں غنی کر دینے کے لیے کافی ہے۔“