المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمَوَالِيهِمْ باب: بنو ہاشم اور ان کے موالی پر صدقہ حرام ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ وَاصِلٍ ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ طَلْقٍ ، امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ سَنَةَ تِسْعِينَ ، عَنْ جَدِّي رُشَيْدِ بْنِ مَالِكٍ أَبِي عَمِيرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ صَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : بَلْ صَدَقَةٌ . قَالَ : فَقَدِّمْهَا إِلَى الْقَوْمِ ، وَالْحَسَنُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَتَعَفَّرُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ تَمْرَةً فَجَعَلَ فِي فِيهِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِي الصَّبِيِّ ، وَانْتَزَعَ التَّمْرَةَ وَقَذَفَ بِهَا ، فَقَالَ : إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ .
وَقَالَ الْبَاوَرْدِيُّ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُقَرِّنٌ بِهِ .
وَقَالَ : حَدَّثَنِي رُشَيْدٌ .
وَرَوَاهُ ابْنُ مَنْدَهْ ، وَابْنُ السَّكَنِ جَمِيعًا عَنِ الْبَارُودِيِّ بِهِ .
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ بِهِ .سیدنا رشید بن مالک ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک روز رسول اللہ ﷺ کی مجلسِ مبارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص کھجوروں کا ایک تھال لے کر حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ صدقہ ہے یا ہدیہ؟“ اس شخص نے عرض کیا: (عالی مرتبت!) یہ صدقہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اسے (یہاں موجود عام) لوگوں کے سامنے پیش کر دو۔“ اس دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے زمین پر کھیل رہے تھے، انہوں نے ایک کھجور اٹھائی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ دیکھا تو اپنا دستِ مبارک بچے کے دہن میں ڈالا، وہ کھجور نکالی اور اسے باہر پھینک دیا، پھر ارشاد فرمایا: ”بیشک ہم آلِ محمد صدقہ نہیں کھاتے۔“
امام باوردی نے اسے محمد بن ایوب سے اور انہوں نے احمد بن یونس سے روایت کیا ہے۔ امام طبرانی نے اسے ابوزرعہ اور ابو نعیم کے واسطے سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے کہا کہ ہمیں یہ روایت مقرن نے بیان کی۔ ابن مندہ اور ابن السکن نے بھی اسے بارودی کے واسطے سے روایت کیا ہے، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب 'التاریخ' میں ابو نعیم کی سند سے نقل فرمایا ہے۔