المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْقِيمَةِ فِي الزَّكَاةِ باب: زکوٰۃ میں (اصل شے کے بجائے) اس کی قیمت وصول کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 909
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُعَاذًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى الْيَمَنِ ، فَكَانَ يَأْخُذُ الثِّيَابَ بِصَدَقَةِ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ .ترجمہ
طاووس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو (عامل بنا کر) یمن روانہ فرمایا، تو وہ وہاں زکوٰۃ کی وصولی میں گندم اور جو کے عوض (ان کی جگہ) کپڑے وصول کر لیا کرتے تھے
ائمہ احناف اور دیگر فقہاء اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ زکوٰۃ میں اصل جنس کے بجائے اس کی قیمت یا متبادل کے طور پر دیگر مفید اشیاء وصول کرنا جائز ہے، جیسا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ و مدینہ کی ضرورت کے پیشِ نظر غلے کے بجائے یمنی کپڑوں کو ترجیح دی تھی۔