المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَخْذِ خِيَارِ الْمَالِ فِي الزَّكَاةِ وَالتَّعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ باب: زکوٰۃ میں عمدہ مال لینے اور زیادتی کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 903
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِ الْأَحْمَسِيِّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ نَاقَةً حَسْنَاءَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : قَاتَلَهُ اللهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الْإِبِلِ . قَالَ : فَنَعَمْ إِذًا .
903 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ .ترجمہ
سیدنا صنابح احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ و صدقات کے اونٹوں میں ایک نہایت خوبصورت اور عمدہ اونٹنی دیکھی تو (بطورِ تعجب و تنبیہ) فرمایا: ”اللہ اسے غارت کرے (یعنی اس نے مالِ زکوٰۃ میں سے ایسا اعلیٰ مال کیوں لیا؟)“ اس پر (عاملِ زکوٰۃ نے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ریوڑ کے دو عام اور چھوٹے اونٹ دے کر اس ایک اونٹنی کا سودا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: ”تب تو یہ سودا ٹھیک ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی سند کے ساتھ ابوبکر سے روایت کیا ہے۔