❮
❯
حدیث نمبر: 902
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مَرَّتْ بِهِ غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَةِ ، فِيهَا شَاةٌ ذَاتُ ضَرْعٍ ضَخْمٍ ، فَقَالَ : مَا أَظُنُّ أَهْلَ هَذِهِ أَعْطَوْهَا وَهُمْ طَائِعُونَ ، لَا تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ ، لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ ، نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ .
ترجمہ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے سے زکوٰۃ کی بکریاں گزری گئیں جن میں ایک بڑے تھن والی بکری بھی شامل تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے (اسے دیکھ کر) فرمایا: ”میرا گمان یہی ہے کہ اس کے مالکان نے یہ بکری خوش دلی سے نہیں دی ہوگی، تم مسلمانوں کے مال کے چیدہ اور قیمتی حصے (بطورِ زکوٰۃ) نہ لیا کرو، لوگوں کو آزمائش میں نہ ڈالو اور دودھ دینے والے یا کھانے پینے کی غرض سے پالے گئے خاص جانوروں سے پرہیز کرو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده منقطع؛ القاسم بن محمد لم يدرك عمر. »
«أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 915، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7754، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 902، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10011»