المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ باب: بغیر وضو کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 86
قَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَمَسَّحَ ، وَقَالَ : " لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ مُتَوَضِّئًا " . أَوْ قَالَ : لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَمَسَّحَ وَرَدَّ عَلَيْهِ .ترجمہ
سیدنا حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے اسے (فوری) جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تیمم (دیوار وغیرہ پر ہاتھ پھیر کر مسح) فرمایا، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے سلام کا جواب دینے سے مجھے کسی چیز نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ میں باوضو (حالتِ طہارت میں) نہیں تھا۔“ یا راوی نے یوں کہا کہ آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تیمم (مسح) کیا اور پھر اسے جواب دیا۔