المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ باب: بغیر وضو کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی کراہت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا بِالْمَقَاعِدِ يَتَوَضَّأُ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ . ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَقَفَ عَلَى الرَّجُلِ ، فَقَالَ : لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَقُولَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ " .محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو چبوتروں (بیٹھنے کی جگہوں) پر بیٹھے ہوئے وضو کرتے دیکھا، اس دوران ان کے پاس سے ایک شخص گزرا اور اس نے انہیں سلام کیا، لیکن انہوں نے وضو سے فارغ ہونے تک اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر وہ مسجد میں داخل ہوئے اور اس شخص کے پاس جا کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص نے وضو کیا اور پھر (فراغت تک) کوئی گفتگو نہیں کی یہاں تک کہ اس نے یہ کلمات کہہ لیے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، تو اس کے ان دو وضوؤں کے درمیانی وقفے کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ضعیف راوی ہے، جس کی وجہ سے محدثین کے نزدیک یہ روایت سنداً کمزور ہے۔