المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی اجازت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ اشْتَكَى ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ أَنَا وَالْحَكَمُ فَتَذَاكَرْنَا الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيَنْطَلِقُ رَجُلٌ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، فَيُقْتَلُ فِي قُطْرٍ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ شَهِيدًا ، فَتَبْكِيهِ امْرَأَةٌ سَفِيهَةٌ جَاهِلَةٌ ، فَيُعَذَّبُ بِبُكَائِهَا عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : صَدَقَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبْطَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ .
848 \ 2 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، حَدَّثَنَا حَاجِبٌ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ عَلَى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، فَتَذَاكَرُوا الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ، فَحَدَّثَنَا بَكْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ، - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي بِذَلِكَ ، فَكَأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - خَالَفَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَأَنْ أَنْطَلِقَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، لَكِنْ قَالَ : كَذَبَ ، بَدَلَ : أَبْطَلَ ، وَكَرَّرَ ذَلِكَ .حاجب بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ بیمار ہوئے تو میں اور حکم بن اعرج ان کی عیادت کے لیے گئے۔ وہاں اس مسئلے کا ذکر ہوا کہ میت کو اس کے اہل کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔ بکر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی سے کہا: ”کیا ایک شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے، زمین کے کسی گوشے میں شہید ہو جائے، پھر کوئی نادان اور جاہل عورت اس پر روئے تو اسے اس عورت کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا؟“ اس صحابی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا اور ابوہریرہ سے غلطی ہوئی۔“
امام ابو یعلیٰ کی دوسری روایت میں اسی واقعے کے آخر میں «أَبْطَلَ» کے بجائے «كَذَبَ» کے الفاظ ہیں اور یہ بات متعدد مرتبہ دہرائی گئی ہے۔