المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 847
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ فَوَجَدَهُ قَدِ احْتُضِرَ ، وَنِسَاؤُهُ حَوْلَهُ يَبْكِينَهُ ، فَذَهَبَ رِجَالٌ يَرْدَعُونَ النِّسَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : دَعْهُنَّ ، فَإِذَا وَجَبَتْ فَلَا أَسْمَعَنَّ صَوْتَ نَائِحَةٍ .
هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ .ترجمہ
ابوسلمہ رحمہ اللہ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو معاویہ کے ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو اسے حالتِ نزع میں پایا اور اس کی عورتیں اس کے گرد رو رہی تھیں۔ کچھ مرد انہیں روکنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، البتہ جب موت واقع ہو جائے تو میں کسی نوحہ کرنے والی کی آواز ہرگز نہ سنوں۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند حسن ہے۔