المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 846
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ : مَا كَانَ مِنْ حُزْنٍ فِي قَلْبٍ ، أَوْ عَيْنٍ ، فَإِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ ، وَمَا كَانَ مِنْ صَوْتٍ أَوْ نُدْبَةٍ فَهُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ .ترجمہ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم کی وفات کے دن ارشاد فرمایا: ”دل میں جو غم ہو اور آنکھ سے جو آنسو بہے، وہ اللہ کی رحمت ہے، البتہ بلند آواز سے رونا اور نوحہ و بین کرنا شیطان کی طرف سے ہے۔“
اس روایت کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے۔