المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی اجازت کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَبَضَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ رُكْبَتَيْهِ ، فَدَخَلَ مَلَكٌ ، فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا قَالَ : فَأَوْسَعْتُ لَهُ ، وَأُمُّ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ مُعَاذٍ - تَبْكِيهِ وَهِيَ تَقُولُ :
وَيْلُ أُمِّ سَعْدٍ سَعْدَا بَرَاعَةً وَمَجْدَا بَعْدَ أَيَادٍ لَهُ وَمَجْدَا
يُقَدِّمُ شَبَابَهُ سُدَّا .
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُلُّ الْبَوَاكِي تَكْذِبُ إِلَّا أُمَّ سَعْدٍ .سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس دن (سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر) اپنے دونوں مبارک گھٹنے سمیٹ لیے، اتنے میں ایک فرشتہ داخل ہوا لیکن اسے بیٹھنے کی جگہ نہ ملی تو میں نے اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی، اس دوران ام سعد (یعنی سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی والدہ) ان پر گریہ و زاری کر رہی تھیں اور یہ اشعار پڑھ رہی تھیں: ”ہاۓ افسوس سعد کی ماں پر سعد کی جدائی میں! جو کمال اور بزرگی کا پیکر تھا، اپنے احسانات اور عظمت کے تذکروں کے بعد اس نے اپنی جوانی (راہِ خدا میں) قربان کر دی۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رونے والی ہر عورت (مبالغہ آرائی کی وجہ سے) جھوٹ بولتی ہے سوائے ام سعد کے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور امام حاکم نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔