المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی اجازت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَضِيَّةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّمَا هَذِهِ رَحْمَةٌ ، وَمَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ ، يَا إِبْرَاهِيمُ ، لَوْلَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَقٌّ ، وَوَعْدٌ صِدْقٌ ، وَسَبِيلٌ نَأْتِيهِ ، وَأَنَّ أُخْرَانَا سَيَلْحَقُ أُولَانَا لَحَزِنَّا عَلَيْكَ حُزْنًا أَشَدَّ مِنْ هَذَا ، وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ ، تَبْكِي الْعَيْنُ ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ .
844 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى بِهِ .
844 \ 3 - أَخْرَجَ التِّرْمِذِيُّ أَصْلَهُ مِنْ طَرِيقِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَقَالَ : وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ، فَأَشَارَ إِلَى مَا ذَكَرْتُهُ هُنَا .
844 \ 4 - وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّمَا هَذِهِ رَحْمَةٌ ، حَسْبُ .
وَخَالَفَهُمْ أَبُو الْمُغِيرَةِ النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَتَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ فَرَوَيَاهُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - جَعَلَاهُ مِنْ مُسْنَدِ ابْنِ عَوْفٍ ، فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَكَأَنَّ جَابِرًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَخَذَهُ عَنْهُ .
844 \ 5 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : أَخَذَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْخَلَنِي النَّخْلَ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ مُقَطَّعًا .
844 \ 6 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ .
ابْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَالِاضْطِرَابُ فِيهِ مِنْهُ ، وَاللهُ أَعْلَمُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، پھر راوی نے نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم کی وفات کا واقعہ ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو رحمت ہے، اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اے ابراہیم! اگر یہ ایک یقینی امر، سچا وعدہ اور ایسا راستہ نہ ہوتا جس پر ہم سب کو چلنا ہے، اور اگر بعد میں آنے والوں نے پہلے جانے والوں سے نہ ملنا ہوتا، تو ہم تم پر اس سے بھی زیادہ غم کرتے۔ بلاشبہ ہم تمہاری جدائی پر رنجیدہ ہیں؛ آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، مگر ہم زبان سے وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے رب کو ناراض نہ کرے۔“
امام عبد بن حمید نے عبیداللہ بن موسیٰ کے واسطے سے ابن ابی لیلیٰ سے یہی روایت نقل کی ہے۔ امام ترمذی نے بھی عیسیٰ بن یونس کے طریق سے اس کا اصل بیان کیا اور اشارہ کیا ہے کہ حدیث میں اس سے زیادہ کلام موجود ہے۔ ابو داؤد طیالسی کی روایت «إِنَّمَا هَذِهِ رَحْمَةٌ» تک ہے۔ بعض طرق میں اسے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی مسند اور بعض میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مسند قرار دیا گیا ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کا حافظہ کمزور تھا اور اس روایت کا اضطراب انہی کی طرف سے ہے، واللہ اعلم۔