المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ مَوْتِ الْفَجْأَةِ باب: اچانک موت کی کراہت کا بیان۔
أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا دُرُسْتُ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ مَاتَ ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَدْ مَاتَ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الَّذِي كَانَ عِنْدَنَا آنِفًا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَأَنَّهَا أَخْذَةٌ عَلَى غَضَبٍ .
841 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِهِ .
841 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ بِهِ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھا، پھر اس کا انتقال ہو گیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو مطلع کیا گیا کہ وہ فوت ہو گیا ہے، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا وہی شخص جو ابھی ذرا دیر پہلے ہمارے پاس موجود تھا؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو ایسی موت ہے گویا غصے کی حالت میں اچانک پکڑ لیا گیا ہو (یعنی اسے بالکل ناگہانی موت آئی ہے)۔“
امام مسدد نے بھی اسے درست بن زیاد، از یزید، از سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے
اور امام ابو یعلیٰ نے اسے اسحاق بن ابی اسرائیل، از درست بن زیاد کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔