❮
❯
حدیث نمبر: 833
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : كُنْتُ أَسْمَعُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَقُولُ : لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِي بَابٍ إِلَّا دَخَلَ مَعَهُ نَاسٌ ، فَلَا أَدْرِي مَا تَأْوِيلُ قَوْلِهِ ، حَتَّى طُعِنَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَأَمَرَ صُهَيْبًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثَلَاثًا ، وَأَمَرَ أَنْ يَجْعَلَ لِلنَّاسِ طَعَامًا . فَلَمَّا رَجَعُوا مِنَ الْجِنَازَةِ جَاؤُوا وَقَدْ وُضِعَتِ الْمَوَائِدُ فَأَمْسَكَ النَّاسُ عَنْهَا لِلْحُزْنِ الَّذِي هُمْ فِيهِ ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ مَاتَ ... الْحَدِيثَ .
( 32 ) وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى بِتَمَامِهِ فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
ترجمہ

سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا کہ ”قریش کا کوئی بھی شخص جب کسی دروازے (یا معاملے) میں داخل ہوتا ہے تو دوسرے لوگ بھی اس کے ہمراہ اس میں ضرور داخل ہو جاتے ہیں“۔ احنف کہتے ہیں کہ مجھے ان کے اس قول کا اصل مفہوم سمجھ نہیں آتا تھا، یہاں تک کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ تین روز تک لوگوں کو نماز پڑھائیں اور یہ بھی ہدایت فرمائی کہ لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے۔ چنانچہ جب لوگ جنازے سے فارغ ہو کر واپس لوٹے تو دسترخوان بچھائے جا چکے تھے، مگر لوگ اس گہرے رنج و ملال کی وجہ سے جو انہیں لاحق تھا، کھانے سے باز رہے۔ تب سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پکار کر فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً (عمر) وفات پا چکے ہیں...“ (الحدیث)۔
یہ روایت ان شاء اللہ تعالیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بیان میں اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ آگے آئے گی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 833
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن
قال الهيثمي: وفيه علي بن زيد وحديثه حسن وبقية رجاله رجال الصحيح ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (5 / 195) »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 833، 4127»