المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّعْزِيَةِ باب: تعزیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 832
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْعَبْسِيُّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَا عَزَّى مُؤْمِنٌ مُؤْمِنًا قَطُّ بِمُصِيبَةٍ إِلَّا كُسِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُلَّةً يُحْبَرُ فِيهَا .ترجمہ
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ بن کریز رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی مومن نے بھی اپنے کسی (مصیبت زدہ) مومن بھائی کی تعزیت (یعنی غم خواری و دلاسہ) کی، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ایسا فاخرہ جوڑا پہنائے گا جس میں وہ نہایت خوش و خرم اور معزز و مکرم ہوگا۔“
اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے، اور بعض محدثین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔