المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْنِ باب: تدفین کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 825
وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا وَقَعَ طَاعُونُ الْجَارِفِ احْتَفَرَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ لِنَفْسِهِ قَبْرًا ، فَقَرَأَ فِيهِ الْقُرْآنَ حَتَّى خَتَمَهُ ، فَلَمَّا مَاتَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - دُفِنَ فِيهِ .ترجمہ
عبد الحکم بن سلیمان سے روایت ہے کہ جب ”طاعونِ جارف“ (یعنی وہ ہولناک وبا جس نے لوگوں کو سیلاب کی طرح بہا دیا تھا) کی وبا پھوٹی، تو بشیر بن کعب رضی اللہ عنہ نے (موت کی تیاری کے طور پر) اپنے لیے ایک قبر کھودی، پھر اس میں بیٹھ کر وہ قرآنِ مجید کی تلاوت فرماتے رہے یہاں تک کہ اسے مکمل ختم کر لیا، پھر جب ان کا انتقال ہوا تو انہیں اسی قبر میں سپردِ خاک کیا گیا۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے اپنی تصنیف ”الزهد“ میں روایت کیا ہے۔