المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْنِ باب: تدفین کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ هُوَ ابْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : إِنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ : وَادْفِنُونِي حَيْثُ لَا يَرَانِي بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أُغَادِرُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
826 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : إِنَّهُ أَوْصَى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ : وَادْفِنُونِي فِي مَكَانٍ لَا يَعْلَمُ بِهِ أَحَدٌ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ هَنَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَخَافُ أَنْ يُدْخِلُوهَا عَلَيْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، فَيَعِيبُوا عَلَيْكُمْ دِينَكُمْ .حکیم بن قیس بن عاصم سے روایت ہے کہ سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”تم مجھے ایسی جگہ دفن کرنا جہاں قبیلہ بکر بن وائل کے لوگ میری قبر کو نہ دیکھ سکیں، کیونکہ جاہلیت کے زمانے میں میں ان پر شب خون مارا کرتا تھا (اور ان کے خلاف غارت گری میں مصروف رہتا تھا)۔“
امام ابو یعلیٰ کی روایت میں سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے وصیت فرمائی، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم مجھے ایسی پوشیدہ جگہ سپردِ خاک کرنا جس کا کسی کو علم نہ ہو، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے اور بنو بکر بن وائل کے مابین کچھ ناخوشگوار معاملات اور دشمنیاں رہی ہیں، پس مجھے اندیشہ ہے کہ وہ (ان پرانی عداوتوں کی بنا پر میری قبر کے ساتھ کوئی نازیبا سلوک کر کے) تمہارے لیے اسلام کی حالت میں کوئی ایسی پریشانی پیدا نہ کر دیں جس کے نتیجے میں وہ تمہارے دین پر حرف لائیں (اور تمہیں طعنہ دیں)۔“