المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْنِ باب: تدفین کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ آخَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَضَرَنَا مَيِّتًا يُدْفَنُ فَقَالَ : لَا تُثْقِلُوا صَاحِبَكُمْ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي أَنْ لَا يُزَادَ عَلَى تُرَابِ الْحُفْرَةِ ، وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحَدِيثِ : خَفِّفُوا عَنْ صَاحِبِكُمْ . قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي مِنْ تُرَابِ الْقَبْرِ .نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک میت کی تدفین کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے اس ساتھی پر بوجھ نہ ڈالو۔“ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے اس کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قبر پر اس کے اپنے گڑھے سے نکلی ہوئی مٹی سے زیادہ مٹی ڈال کر اسے بوجھل نہ کیا جائے، اور بعض اوقات حدیث کے الفاظ یوں مروی ہیں کہ ”اپنے ساتھی کا بوجھ ہلکا کرو۔“ امام سفیان نے فرمایا کہ اس سے مراد بھی قبر کی مٹی میں زیادتی نہ کرنا ہے۔
اس روایت کو امام ابن ابی عمر نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں راوی کے مبہم ہونے کی وجہ سے ضعف موجود ہے تاہم قبر کو مٹی سے زیادہ اونچا نہ کرنے کا حکم دیگر احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔