المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْنِ باب: تدفین کے احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا بِمَكَّةَ كَانَ أَصْلُهُ رُومِيًّا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَقُولُ : أَوَّهْ ... أَوَّهْ ، فِي دُعَائِهِ . قَالَ : فَخَرَجْتُ لَيْلَةً فَإِذَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْفِنُ ذَلِكَ الرَّجُلَ لَيْلًا عَلَى مِصْبَاحٍ .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنی دعا میں «أَوَّهْ ... أَوَّهْ» یعنی ”آہ! آہ!“ (نہایت دردمندی اور سوز و گداز سے) پکار رہا تھا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں ایک رات باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چراغ کی روشنی میں رات کے وقت خود اس شخص کو قبر میں دفن فرما رہے ہیں۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود ایک رومی نژاد راوی مبہم (نامعلوم) ہے، تاہم یہ واقعہ دیگر مستند روایات میں سیدنا عبداللہ ذوالبجادین رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے جنہیں کثرت سے گریہ و زاری اور عاجزی کے ساتھ دعا کرنے کی وجہ سے ”اوّاہ“ کا لقب عطا کیا گیا تھا۔